4 نومبر 2020 - 14:51
فرانسیسی نوجوانوں کے نام امام خامنہ ای کا ٹویٹ پیغام آفاق عالم میں گونج اٹھا

امام خامنہ ای نے فرانسیسی جریدے کے توسط سے رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ کی شان میں گستاخی اور فرانسیسی صدر کی طرف سے اس گستاخی کی ہمہ جہت پشت پناہی کے بعد فرانسیسی عوام کے نام ایک مختصر پیغام (شارٹ میسج) بھیج کر اس حقیقت کو آشکار کردیا ہے کہ جس چیز نے فرانسیسی صدر سمیت مغربی حکمرانوں کو تشویش کی اتہاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے وہ خالص محمدی اسلام کا روزافزوں فروغ ہے جس نے گذشتہ 41 برسوں کے دوران استکباری ممالک اور خونخوار اور لٹیرے صہیونی-یہودیوں کو شدید گھٹن میں مبتلا رکھا ہؤا ہے.

بقلم: حسین شریعتمداری
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حال ہی میں فرانسیسی نوجوانوں کے نام اپنے ٹویٹ پیغام میں فرانس کی حساس ترین دکھتی رگ پر انگلی رکھی ہے اور جمہوریت اور اس ملک سمیت مغربی دنیا کی طرف کے جمہوریت اور آزادی بیان کے بےبنیاد دعوے کو چیلنج کردیا ہے۔ آپ فرانسیسی نوجوانوں سے فرماتے ہیں کہ "اپنے صدر جمہوریہ سے پوچھ لیجئے کہ ہالوکاسٹ میں شک و شبہہ کرنا جرم ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی شان میں گستاخی مُجاز ہے؟"
یہ ایک دو طرفہ سوال ہے جو نہایت زیرکی اور کیاست سے جنم  لے چکا ہے اور اس کے دونوں رخ فرانس کے شاتم سربراہ کے لئے شرمناک اور بدنام کنندہ ہیں۔ اس سلسلے میں کہنا چاہئے:
1۔ امام خامنہ ای بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کا پیغام جاری ہونے کے فورا بعد پوری دنیا کی وسعتوں میں پھیل جائے گا۔ یعنی یہ کہ اس پیغام کا خطاب صرف فرانسیسی نوجوانوں سے نہیں ہوگا لیکن رہبر انقلاب کے پیغام کا رخ فرانسیسی نوجوانوں کی طرف ہے۔ یہ پیغام صدر فرانس کو نہایت اعلانیہ طور پر تذلیل کرتا ہے اور اس حقیقت کا بھی اظہار ہے کہ "صدر فرانس اپنے اقدام کی خباثت سے بخوبی آگاہ تھا چنانچہ وہ اس قابل نہ تھا کہ امام خامنہ ای جیسی ہستی کے پیغام میں اس کو مورد خطاب قرار دیا جائے"۔
2۔ ہالوکاسٹ ایک عظیم تاریخی جھوٹ ہے اور بےشمار دستاویزات اور شواہد دستیاب ہیں جو اس صہیونی-یہودی افسانے کے جعلی پن کو ثابت کرتے ہیں۔ مغرب ہالوکاسٹ کے حوالے سے بہت فکرمند اور بےچین ہے اور اس کی بےچینی خوف و وحشت کے ساتھ گھل مل چکی ہے؛ اور اگر ایسا نہ ہوتا اور تحقیقات اور تجزیوں سے ہالوکاسٹ کے وقوع کی گواہی ملنے کا امکان ہوتا تو یقینی امر ہے کہ مغرب اور یہود کے سرکردگان نہ صرف اس بارے میں کسی تحقیق سے خوفزدہ نہ ہوتے، بلکہ دوسروں کو بھی اس قسم کی تحقیق کی دعوت دیتے اور انہیں اس کام کی ترغیب بھی دلاتے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس مختصر سے پیغام میں اس عظیم جھوٹ کے کیس کو دنیا والوں کے سامنے کھول دیا ہے۔ ایسا سیاہ اور شرمناک کیس، جس کے کھل جانے سے یہودی بھی اور ان کے حامی مغربی حکمران بھی، خوفزدہ ہیں۔
3۔ ہم نے قبل ازیں اخبار "کیہان" میں ہالوکاسٹ کے جعلی پن کے اثبات کے لئے بےشمار دستاویزات پیش کی ہوئی ہیں اور اس مضمون میں ہم ان دستاویزات کی طرف مختصر سا اشارہ کرتے ہیں۔
پیئر ایمانوئل ودال - نیکیٹے، (Pierre Emmanuel Vidal-Naquet)، اور سرج ویلز (Serge Weils) اور فرانسوا براریدا (François Braryda) نے فرانس کے یہودی ربی رینے - سیموئل سپراٹ (Rene-Samuel Sprat) کی سربراہی میں، دوسری جنگ عظیم میں "ساٹھ لاکھ یہودیوں کے قتل عام کے جھوٹے افسانے" کو دستاویز بنا کر ایک قانون کا مسودہ تیار کرکے منظور کروایا اور [اس جھوٹ کو چھپانے کی غرض سے] اس قانون کے تحت "ہالوکاسٹ میں کسی بھی قسم کا شک کرنا، یا دوسری عالمی جنگ میں ساٹھ لاکھ یہودیوں کے قتل کی تعداد میں کمی بیشی کرنا، نیز یہودیوں کے جلانے کے لئے گیس چیمبرز کی موجودگی میں شک کرنا، جرم سمجھا جائے گا اور جو بھی فرانس میں اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا اور مذکورہ تین موضوعات میں شک و تذبذب کا اظہار کرے گا، اس کو ایک مہینے سے ایک سال تک قید اور 2000 سے 3000 فرانک تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا"۔ بعدازاں امریکہ اور بین الاقوامی یہودی ایجنسی کے دباؤ کے تحت یہ قانون دوسرے یورپی ممالک میں منظور کروایا گیا، اور آج صورت حال یہ ہے کہ آج مبینہ ہالوکاسٹ اور اس کے پہلؤوں اور اجزاء میں کسی قسم کا شک و تردد یورپ کی حدود میں قابل گرفت جرم سمجھا جاتا ہے۔
آج تک درجنوں نامور یورپی مؤرخین اور سینکڑوں مشہور اور ماہر پروفیسروں نے تاریخی دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے ایسی دستاویزات فراہم کی ہیں جنہیں کوئی بھی تجزیہ نگار اور مؤرخ ان کی درستی اور صداقت میں شک نہیں کرسکتا۔ انھوں نے بالکل علمی روش سے ثابت کردیا ہے کہ ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتل ایک جھوٹا افسانہ ہے؛ انسان سوزی کی بھٹیوں کا وجود تک نہیں تھا؛ انسانوں کے جلانے کے لئے بنائے گئے گیس چیمبرز کا وجود ہی نہیں تھا اور یہ سب جھوٹے یہودی افسانوں کا حصہ اور صہیونیوں کی داستانیں ہیں، خالصتاً جھوٹی داستانیں، جعلی افسانے، جن کے مقصد [عالمی جنگ کے آٹھ کروڑ مقتولین کے قتل پر پردہ ڈالنے] سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے؛ یہ افسانے عالمی جنگ کی بھینٹ چڑھنے والے بےگناہ انسانوں کی حق تلفی اور نہایت مجرمانہ فعل ہے۔ ان عظیم محققین میں سے پروفیسر راجر گارودی، (اور بعد از قبول اسلام رجا گارودی  Roger Garaudy یا Ragaa Garaudy)، پروفیسر ڈآکٹر رابرٹ فاریسن (Robert Faurisson)، پروفیسر اور کتاب " آؤشوِٹس کا جھوٹ (The  Auschwitz Lie) کے مصنف پروفیسر تھائیز کرسٹوفرسین (Thies Christophersen) شامل ہیں۔ البتہ راجر گارودی اور رابرٹ فوریسن دونوں فرانسیسی ہیں، دونوں جدیدترین ہیں اور دونوں سب سے زیادہ عبرت آموز ہیں۔
4۔ پروفیسر رابرٹ فوریسون فرانس کی مشہور لیون یونیورسٹی (University of León) کے استاد اور عالمی تاریخی دستاویزات کے ماہرترین تجزیہ نگار کے طور پر عالمی شہرت کے حامل شخصیت ہیں۔ انھوں نے اپنی علمی اور مستند تحقیقات کو اپنی کتاب "گیس چیمبرز کا مسئلہ" (The Problem of the Gas Chambers) میں مرتب کیا ہے۔  
انھوں نے ہزاروں دستاویزات کا جائزہ لیا ہے، اور تحقیق کے ان برسوں کے دوران تمام صہیونیوں کے افسانوں میں مذکورہ تمام مقامات - بشمول گیس چیمبرز، انسان سوزی کی جعلی بھٹیوں کا میوزیم، میونخ کے جعلی ڈاخاؤ حراستی کیمپ (Dachau concentration camp) وغیرہ - کا معائنہ کیا ہے اور سینکڑوں عینی شاہدین کے ساتھ بیٹھ کر نہایت باریک بینانہ روشوں سے، بات چیت کی ہے اور آخر کار بغیر کسی ذاتی رائے یا تجزیئے کے بغیر، اور صرف اور صرف دستاویزات کے زبانی، واضح کردیا ہے کہ نازی جرمنی میں یہودیوں کا قتل عام ایک عظیم تاریخی جھوٹ اور رائے عامہ کو دیا جانے والا شرمناک فریب ہے؛ اور اس طرح کا جھوٹ اور فریب وحشی صہیونیوں اور مکار یہودیوں سے بالکل بعید نہیں ہے اور وہ ان روشوں کو پوری تاریخ میں دہراتے رہے ہیں۔
بطور مثال فوریسن گیس چیمبرز کی جعلی تصویروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس دعوے کے مسترد کرتے ہوئے ناقابل انکار دستاویزات سے استناد کرکے، حیرت کے ساتھ پوچھتے ہیں: اگر یہ تصویریں حقیقت پر مبنی ہیں تو جرمن سپاہی مبینہ مہلک گیسوں سے بھرے ہوئے ہالوں میں ماسک اور کسی بھی قسم کی حفاظتی تدابیر اور منہ، ناک اور آنکھوں کے بچاؤ کے لئے کوئی اقدام کیئے بغیر، کھڑے نظر آرہے ہیں اور جن کیسوں سے وہ یہودیوں کو ہلاک کررہے ہیں وہ گیسیں ان کو ہلاک نہیں کررہی ہیں اور وہ بڑی تسلی کے ساتھ یہودیوں کی جان کنی کے مناظر کا نظارہ کررہے ہیں؟؟؟ انھوں نے کچھ صہیونی-یہودیوں کے دعوے کے موافق کچھ یہودیوں کا محاصرہ کرنے والے ٹینکوں کی حامل تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے ناقابل انکار دستاویزات کے سہارے کہتے ہیں کہ یہ ٹینک جرمن نہیں بلکہ برطانوی ہیں!!!
5۔ امام خامنہ ای مذکورہ سوال اٹھا کر ایک طرف سے فرانس اور دوسری یورپی حکومتوں کے ہاں کے آزادی بیان کے دعوے کو مضحک قرار دیتے ہوئے یورپی رائے عامہ - اور بطور خاص یورپی نوجوانوں کو - ہالوکاسٹ کے افسانے کا جائزہ لینے کی دعوت دے رہے ہیں؛ کہ یقینا اس قسم کی تحقیقات کا فیصلہ کن نتیجہ یہ ہوگا کہ اس افسانے کی حقیقت فاش ہوجائے گی اور اس کا جعلی پن طشت از بام ہوجائے گا۔ البتہ امام خامنہ ای کا سوال ہالوکاسٹ کے جعلی پن پر ہی نہیں رکتا بلکہ آپ فرانسیسی حکومت سمیت یورپی حکومتوں کی سیاسی خودمختاری پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، جہاں حتی کہ ہالوکاسٹ کے بارے میں شک و تردد بھی ایک جرم ہے۔
ان دنوں صہیونی-یہودیت کے خلاف اٹھنے والے جذبات یورپی عوام کے درمیان شدت سے ابھر چکے ہیں، اور یورپی حکومتوں کی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے حساس مراکز میں صہیونی یہودیوں کی موجودگی کے خلاف احتجاج و اعتراض میں مسلسل تیزی آ رہی ہے۔ بطور مثال فرانس میں پیلی جیکٹوں والوں کی تحریک کا ایک اعلان شدہ بنیادی مقصد یہ ہے کہ اپنے ملک کے اقتصادی مراکز کو یہودی-صہیونیوں کے چنگل سے چھٹکارا دلائیں۔
ادھر جرمن وفاقی پارلیمان (German federal parliament OR Bundestag)، 598 عوامی نمائندوں سے تشکیل پائی ہے؛ تین کروڑ کی جرمن آبادی میں ایک لاکھ پچاس ہزار یہودیوں کا تناسب 0.5 فیصد ہے جبکہ 598 نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں یہودی اراکین کی تعداد 100 اور تناسب 17 فیصد کے قریب ہے جبکہ زيادہ تر یہودی جرمن نژاد بھی نہیں ہیں۔
یا آج سے دو ہی دن قبل برطانوی لیبر پارٹی - جو کہ برطانیہ کی ایک بڑی اور قومی سطح کی جماعت ہے - کے سینئر رکن اور سابق سربراہ جیریمی کوربین (Jeremy Corbyn) کو - جو برطانیہ میں وسیع مقبولیت کے حامل بھی ہیں - صہیونیت کے خلاف احتجاج کی پاداش میں پارٹی سے نکال باہر کیا گیا ہے اور اس وقت برطانیہ میں یہودی-صہیونیت اور یہودی ریاست کی بےجا مداخلتوں کے خلاف وسیع احتجاجی لہریں اٹھ چکی ہیں جو پورے برطانیہ میں پھیل سکتی ہیں۔
6۔ رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام ایک اور اہم نکتے کا بھی حامل ہے - جس کو لُبِ لباب، اصلِ مَطلَب، حاصِلِ مَطلَب اور عصارہ یا نچوڑ بھی کہا جاسکتا ہے - اور وہ یہ کہ جیسا کہ رہبر انقلاب کا پیغام بخوبی واضح کررہا ہے کہ "فرانسیسی صدر کا مسئلہ بیان اور اظہار کی آزادی کا تحفظ نہیں ہے"، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر فرانس میں نہ صرف ہالوکاسٹ کے بارے میں تحقیق و تفتیش کو جرم سمجھا جاتا ہے بلکہ یہودی مقتولین کی تعداد میں شک و تردد اور کمی بیشی کو بھی، قابل گرفت جرم کیوں سمجھا جاتا ہے؟
امام خامنہ ای نے اپنے مختصر سے پیغام میں اس کڑوی حقیقت کو طشت از بام کردیا ہے کہ جس چیز نے فرانسیسی صدر اور دوسری مغربی ممالک کو تشویش اور خوف و دہشت کی اتہاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے، خالص محمدی اسلام کا روزافزوں فروغ ہے، وہی جس نے گذشتہ 41 برسوں کے دوران استکباری ممالک اور خونخوار اور لٹیرے صہیونی-یہودیوں کو شدید گھٹن میں مبتلا رکھا ہؤا ہے اور مسلسل بلندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے یہاں تک کہ فلک میں شگاف ڈال دے اور عالمی نظآم کے لئے ایک نیا منصوبہ جاری کرے۔
اور بالآخر، یہ پیغام ایک اور اہم نکتے کا بھی حامل ہے جس پر وقت آنے پر روشنی ڈالیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110